کورونا وائرس اور ایک 10سال پرانی فلم...

سنہ 2011 میں میں ریلیز ہونے والی ہالی ووڈ فلم کونٹیجیئن کو شاید ہی باکس آفس پر بلاک بسٹر کے طور پر بیان کیا جاسکے۔
بی بی سی کی کے مطابق میٹ ڈیمن، جوڈ لا، گیونتھ پیلٹرو، کیٹ ونسلٹ اور مائیکل ڈگلس سمیت ایک معروف کاسٹ ہونے کے باوجود یہ فلم اُس برس دنیا بھر سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں 61 ویں نمبر پر تھی۔
لیکن کونٹیجین نے گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی فلم اور امریکہ میں ایپل کے آئی ٹیونز اسٹور پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی فلموں کی فہرست میں حیرت انگیز واپسی کی ہے

فلم کونٹیجیئن بنانے والے وارنر برادرز سٹوڈیو کا کہنا ہے کہ دسمبر میں جب چین میں کوویڈ ۔19 پھیلنے کی پہلی خبر سامنے آئی۔ اس کی کیٹلوگ کا یہ صرف 270 واں مقبول ٹائٹل تھا۔
اور اب تین ماہ میں فلم کونٹیجیئن صرف ہیری پوٹر فرنچائز کی آٹھ فلموں سے پیچھے ہے

یہ سب کچھ کورونا وائرس اور موجودہ وباء اور اس فلم کے مرکزی خیال (پلاٹ) کے درمیان مماثلت جو ایک دہائی قبل کی گئی تھی کی وجہ سے ہے۔
اس فلم میں ایک کاروباری خاتون(پیلٹرو) ایک پراسرار اور مہلک وائرس کے ذریعہ ہلاک ہوجاتی ہے، جس سے وہ چین کے دورے کے دوران متاثر ہوتی ہے اور پھر یہ وائرس پوری دنیا میں ہنگامی صورتحال پیدا کردیتا ہے۔
فلم میں چین والا پہلو اس میں دیگر کچھ باتوں میں سے ایک ہے جو حقیقی زندگی سے معلوم ہوتی ہیں اور اسی بات نے حالیہ ہفتوں میں فلم کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے

Comments

Popular posts from this blog

پورے سعودی عرب کو مکمل طور پر لاک ڈاون کرنے کا فیصلہ سعودی حکام کی جانب سے ملک کو لاک ڈاون کرنے کے فیصلے سے تمام ممالک اور ائیر لائنز کو بھی آگاہ کر دیا گیا، ( 72 ) گھنٹے کے بعد سعودی عرب میں کسی شخص کا دخول یا اخراج نہیں ہوگا

کرونا وائرس کے متعلق بل گیٹس نے زبردست اعلان کردیا